ابنا: ہشام قندیل ، کہ جن کو صدر محمد مرسی نے پارلیمانی انتخابات کے انعقاد تک وزیر اعظم کے فرائض انجام دینے پر مامور کیا ہے ، اپنی کابینہ میں تبدیلیاں کی ہیں۔ مصر کے ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ اس کابینہ میں دس وزراء کو تبدیل کردیا گيا ہے۔ جن وزارتوں کے قلمدان نۓ افراد کو سونپے گۓ ہیں ان میں داخلہ ، ماحولیات ، نقل و حمل ، پارلیمانی امور ، بجلی ، اشیائے خوردنی ، خزانہ ، مواصلات ، ایئرلائن اورمقامی ترقی کی وزارتیں شامل ہیں۔ بہت سے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کابینہ میں تبدیلیاں درحقیقت مختلف سیاسی جماعتوں اور محمد مرسی کے مخالفین کی جانب سے کۓ جانے والے بعض اعتراضات کے نتیجے میں کی گئی ہیں۔گزشتہ مہینے خصوصا مصر میں نئے آئين کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم سے قبل حکومت کے حامیوں اور مخالفین میں سیاسی اور عوامی سطح پر کشیدگي اور جھڑپیں ہوئيں۔حکومت کے مخالفین نے محمد مرسی اور آزادی و انصاف پارٹی پر اقتدار پر قبضے ، غلط مینیجمنٹ اور سیاسی پارٹیوں کے مطالبات پر توجہ نہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان الزامات کے رد عمل میں مصر کی عدلیہ کے سربراہ نے ضبط و تحمل سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے ساتھ قومی آشتی کے مذاکرات نیز حکومت کے اعلی ترین عہدوں تک میں اصلاحات پر تاکید کی تھی۔اب نئے آئین سے متعلق ریفرینڈم کے نتائج کے اعلان کے بعد یہ دونوں کام انجام پا چکے ہیں۔اگرچہ حکومت مخالف بڑے سیاسی گروہوں خصوصا نیشنل سالویشن فرنٹ نے ، کہ جو لبرل اور بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل ہے ، محمد مرسی کی جانب سے پیش کی جانے والی قومی آشتی کے مذاکرات کی تجویز کا خیر مقدم نہیں کیا ہے لیکن اس کے باوجود قاہرہ کی حکومت نے کابینہ میں تبدیلیاں کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ متحدہ قومی حکومت کی تشکیل اور سیاسی جماعتوں کے مطالبات پورے کرنے کے لۓ پر عزم ہے۔تمام قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مصر کےحکام پارلیمانی انتخابات کے انعقاد تک سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لۓ کوشاں ہیں۔ موجودہ صورتحال میں قاہرہ حکومت کی اولین ترجیح سیاسی اور اقتصادی استحکام اور امن عامہ کی برقراری سے عبارت ہے۔ اور یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا ہے جب تک مصر میں موجود بے شمار افکار و نظریات کو مدنظر نہ رکھا جائے کیونکہ یہ افکار و نظریات مصرکی نئي سیاسی زندگي میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مصر کے صدر محمد مرسی نے ملک میں سیکورٹی ، سیاسی اور اقتصادی بحرانوں میں کمی لانے کے مقصد سے ہی کابینہ میں تبدیلیوں سے اتفاق کیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ مصر اس وقت ایک حساس دور سے گزر رہا ہے اور اس حساس مرحلے سے کامیابی سے گزرنے کے لۓ ضروری ہے کہ اس ملک کی سیاسی جماعتیں اور قانونی ادارے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ مصر میں ابھی تک حکومت کی تشکیل کا کام مکمل نہیں ہوا ہے اور ابھی تک سیاسی جماعتوں کی باہمی دشمنیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو اس سے مصر کے انقلاب اور اس کے ثمرات کو کاری ضرب لگ سکتی ہے۔ قاہرہ کے حکام نے اسی مسئلے کا ادراک رکھتے اور اپنی نیک نیتی ظاہر کرتے ہوئے کابینہ میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ شفاف انتخابات کا راستہ ہموارہوسکے اور ملکی اور غیر ملکی طاقتیں غلط فائدہ نہ اٹھا پائيں۔
.......
/169